سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا
کلام: کیف احمد صدیقی
سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیاشام کی آغوش میں سورج بھی تھک کر سو گیا
آخر شب میں بھی کھا کر خواب آور گولیاںچند لمحے نشۂ غم سے بہک کر سو گیا
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیاشام کی آغوش میں سورج بھی تھک کر سو گیا
آخر شب میں بھی کھا کر خواب آور گولیاںچند لمحے نشۂ غم سے بہک کر سو گیا
قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنےبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہ بنے
امتحاں حال میں ہم لائے ہیں اک ایسی کتابممتحن پوچھے یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے