7 اشعار

قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے

Qissa naql kuch aisa hai bataye na bane

قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے

«قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنےبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہ بنے

امتحاں حال میں ہم لائے ہیں اک ایسی کتابممتحن پوچھے یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

ان کتابوں سے ہے پیچھا بھی چھڑانا مشکلاور یہ بوجھ بھی اب ہم سے اٹھائے نہ بنے

کیا کریں کھیل میں کم بخت کشش ہے ایسیجس سے دل اپنا ہٹائیں تو ہٹائے نہ بنے

صبح کو آنکھ بھی کھلتی نہیں جلدی اپنیدیر ہو جائے تو اسکول بھی جائے نہ بنے

گھر سے بھی سینما جانے کی اجازت نہ ملیاور اسکول سے بھی بھاگ کے آئے نہ بنے

کیفؔ خاموش رہا بھی نہیں جاتا مجھ سےاور درجے میں غزل گائیں تو گائے نہ بنے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں