کریسنٹ کی آواز میں
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
کلام: باقی صدیقی · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25
«داغ دل ہم کو یاد آنے لگے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔
داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہمعشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے