11 اشعار

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

Daagh Dil Hum Ko Yaad Aane Lage

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

«داغ دل ہم کو یاد آنے لگے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگے

کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہمعشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے

یہی رستہ ہے اب یہی منزلاب یہیں دل کسی بہانے لگے

خود فریبی سی خود فریبی ہےپاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماںہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے

اس بدلتے ہوئے زمانے میںتیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے

رخ بدلنے لگا فسانے کالوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے

ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھےبیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

اپنی قسمت سے ہے مفر کس کوتیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے

ہم تک آئے نہ آئے موسم گلکچھ پرندے تو چہچہانے لگے

شام کا وقت ہو گیا باقیؔبستیوں سے شرار آنے لگے

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں