مقرر

کریسنٹ

@crescent7765

76
پیش کردہ کلام
72
محفلوں میں شرکت
کریسنٹ کی آواز میں

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

کلام: شہزاد احمد · محفل: رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد · 2026-01-11

«جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلاتیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس

تیرے سینے میں رہا شور بہاراں کا خروشاب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 میں کیوں بھول جاؤں Main Kyun Bhool Jaoon عرش ملسیانی نظم
  2. 02 دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے Dast-e-bezaar se yoon hi na uchhale jaate تنویر دانش
  3. 03 ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی Humein bhi toh mohabbat ho gayi thi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  4. 04 اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن Us ki aankhon ne aise sikhaye sukhan زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  5. 05 ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے Aisa nahin ke us ne banaya nahin mujhe شاہین عباس آواز میں دستیاب
  6. 06 اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں Ae dil tujhe khabar hai ke kya kar raha hoon main بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 07 بھوک Bhook جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 08 اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں Ek mohabbat ke hawale se mujhe jaante hain جواد شیخ آواز میں دستیاب