جینے مرنے کے درمیان ایک ساعت
کلام: شہزاد احمد
کبھی جینے کبھی مرنے کی خواہش روک لیتی ہےوگرنہ میں ہوا کی لہر میں تحلیل ہو جاؤں
کدھر جاؤں کہ ہر سو ساعتیں رستے کا پتھر ہیںاگر بیٹھا رہوں تو راکھ میں تبدیل ہو جاؤں
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
کبھی جینے کبھی مرنے کی خواہش روک لیتی ہےوگرنہ میں ہوا کی لہر میں تحلیل ہو جاؤں
کدھر جاؤں کہ ہر سو ساعتیں رستے کا پتھر ہیںاگر بیٹھا رہوں تو راکھ میں تبدیل ہو جاؤں
جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلاتیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس
تیرے سینے میں رہا شور بہاراں کا خروشاب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس