15 اشعار

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

Jhaankta hai teri aankhon se zamanon ka khala

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

«جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلاتیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس

تیرے سینے میں رہا شور بہاراں کا خروشاب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس

تو نے اک عمر سے بازو بھی نہیں پھیلائےپھر بھی بانہوں کو ہے صدیوں کی تھکن کا احساس

تیرے چہرے پہ سکوں کھیل رہا ہے لیکنتیرے سینے میں تو طوفان گرجتے ہوں گے

بزم کونین تری آنکھ میں ویران سہیترے خوابوں کے محلات تو سمجھے ہوں گے

گرچہ اب کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گاپھر بھی آہٹ پہ ترے کان تو بجتے ہوں گے

وقت ہے ناگ ترے جسم کو ڈستا ہوگایخ کر تجھ کو ہوائیں بھی بپھرتی ہوں گی

سب ترے سائے کو آسیب سمجھتے ہوں گےتجھ سے ہم جولیاں کترا کے گزرتی ہوں گی

کتنی یادیں ترے اشکوں سے ابھرتی ہوں گیزندگی ہر نئے انداز کو اپناتی ہے

یہ فریب اپنے لیے جال نئے بنتا ہےرقص کرتی ہے ترے ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی

اور جی کو کوئی روح کی طرح دھنتا ہےلاکھ پردوں میں چھپا شور اذیت لیکن

دل ترے دل کے دھڑکنے کی صدا سنتا ہےتیرا غم جاگتا ہے دل کے نہاں خانوں میں

تیری آواز سے سینے میں فغاں پیدا ہےتیری آنکھوں کی اداسی مجھے کرتی ہے اداس

تیری تنہائی کے احساس سے دل تنہا ہےجاگتی تو ہے تو تھک جاتی ہے آنکھیں میری

زخم جلتے ہیں ترے درد مجھے ہوتا ہے

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں