مقرر

کریسنٹ

@crescent7765

76
پیش کردہ کلام
72
محفلوں میں شرکت
کریسنٹ کی آواز میں

جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے

کلام: باقی صدیقی · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25

«جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلےمنزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے

اہل ستم پہ اہل ستم کا ستم نہ پوچھاک آستاں کے بدلے کئی آستاں جلے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 میں کیوں بھول جاؤں Main Kyun Bhool Jaoon عرش ملسیانی نظم
  2. 02 دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے Dast-e-bezaar se yoon hi na uchhale jaate تنویر دانش
  3. 03 ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی Humein bhi toh mohabbat ho gayi thi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  4. 04 اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن Us ki aankhon ne aise sikhaye sukhan زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  5. 05 ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے Aisa nahin ke us ne banaya nahin mujhe شاہین عباس آواز میں دستیاب
  6. 06 اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں Ae dil tujhe khabar hai ke kya kar raha hoon main بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 07 بھوک Bhook جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 08 اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں Ek mohabbat ke hawale se mujhe jaante hain جواد شیخ آواز میں دستیاب