کریسنٹ کی آواز میں
جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے
کلام: باقی صدیقی · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25
«جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلےمنزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے
اہل ستم پہ اہل ستم کا ستم نہ پوچھاک آستاں کے بدلے کئی آستاں جلے