5 اشعار

جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے

Josh-e-junoon mein zeesat ke saare nishaan jale

جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے

«جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلےمنزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے

اہل ستم پہ اہل ستم کا ستم نہ پوچھاک آستاں کے بدلے کئی آستاں جلے

فصل بہار میں جو نکالے گئے ندیمان کی بلا سے باغ جلے، باغباں جلے

مجبوریوں کا نام ہی شاید ہے بےکسینظروں کے سامنے بھی کئی آشیاں جلے

باقیؔ ستمگروں کی ادائے ستم نہ پوچھزنداں وہیں بنائے نشیمن جہاں جلے

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں