مقرر

کریسنٹ

@crescent7765

76
پیش کردہ کلام
72
محفلوں میں شرکت
کریسنٹ کی آواز میں

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی

کلام: مظفر وارثی · محفل: شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی) · 2025-12-18

«خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئیآئنہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی

سانس لیتا ہوں تو چبھتی ہیں بدن میں ہڈیاںروح بھی شاید مری اب مجھ سے باغی ہو گئی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 میں کیوں بھول جاؤں Main Kyun Bhool Jaoon عرش ملسیانی نظم
  2. 02 دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے Dast-e-bezaar se yoon hi na uchhale jaate تنویر دانش
  3. 03 ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی Humein bhi toh mohabbat ho gayi thi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  4. 04 اس کی آنکھوں نے ایسے سکھائے سخن Us ki aankhon ne aise sikhaye sukhan زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  5. 05 ایسا نہیں کہ اس نے بنایا نہیں مجھے Aisa nahin ke us ne banaya nahin mujhe شاہین عباس آواز میں دستیاب
  6. 06 اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں Ae dil tujhe khabar hai ke kya kar raha hoon main بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 07 بھوک Bhook جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 08 اک محبت کے حوالے سے مجھے جانتے ہیں Ek mohabbat ke hawale se mujhe jaante hain جواد شیخ آواز میں دستیاب