8 اشعار

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی

Khud miri aankhon se ojhal miri hasti ho gai

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی

«خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئیآئنہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی

سانس لیتا ہوں تو چبھتی ہیں بدن میں ہڈیاںروح بھی شاید مری اب مجھ سے باغی ہو گئی

فاش کر دیں میں نے خود اندر کی بے ترتیبیاںزندگی آرائشوں میں اور ننگی ہو گئی

پیار کرتی ہیں مرے رستوں سے کیا کیا بندشیںتوڑ دی زنجیر تو دیوار اونچی ہو گئی

میری جانب آئے پس منظر سے پتھر بے شماررنگ دنیا دیکھ کر بینائی زخمی ہو گئی

پڑ گیا پردہ سماعت پر تری آواز کاایک آہٹ کتنے ہنگاموں پہ حاوی ہو گئی

کر گیا ہے مبتلائے کرب اور اک سانحہاور کچھ دن زندہ رہنے کی تلافی ہو گئی

خواہشوں کی آگ بھی بھڑکائے گی اب کیا مجھےراکھ بھی میری مظفرؔ اب تو ٹھنڈی ہو گئی

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں