تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
کلام: مظفر وارثی
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیںتم اپنے پیچھے چھپے ہوئے ہو
بغور دیکھوں تمہیں تو مجھ کوشرارتوں پر ابھارتی ہیں
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیںتم اپنے پیچھے چھپے ہوئے ہو
بغور دیکھوں تمہیں تو مجھ کوشرارتوں پر ابھارتی ہیں
خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئیآئنہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی
سانس لیتا ہوں تو چبھتی ہیں بدن میں ہڈیاںروح بھی شاید مری اب مجھ سے باغی ہو گئی