کریسنٹ کی آواز میں
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
کلام: سیماب اکبر آبادی · محفل: ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی · 2026-01-19
«سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزرینہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری
ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوںگزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری