سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
کلام: سیماب اکبر آبادی
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزرینہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری
ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوںگزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزرینہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری
ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوںگزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری
میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیںتو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیں
اور یہ کیا ہے ضبط جو سوز پنہانی نہیںآگ روشن دل میں ہے چہرے پہ تابانی نہیں