11 اشعار

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری

Sabu par jaam par sheeshe pe paimane pe kya guzri

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری

«سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزرینہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری

ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوںگزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری

کسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شایدہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری

نہ ہو جو زندگی انجام وہ وجدان ناقص ہےحضور شمع بعد وجد پروانے پہ کیا گزری

بتائیں برہمن اور شیخ ان کی خانہ جنگی میںخدا خانے پہ کیا بیتی صنم خانے پہ کیا گزری

تو اپنے ہی مآل سوز غم پر غور کر پہلےتجھے اس سے نہیں کچھ بحث پروانے پہ کیا گزری

کسی حکمت سے کر دے کوئی گویا مرنے والوں کویہ راز اب تک ہے سربستہ کہ مر جانے پہ کیا گزری

تری ہر سو تجلی اور میری ہر طرف نظریںتجھے تو یاد ہوگا آئینہ خانے پہ کیا گزری

زباں منہ میں ہے عرض حال کر تو نے تو دیکھا ہےکہ خوئے ضبط و خاموشی سے پروانے پہ کیا گزری

وہ کہتا تھا خدا جانے بہار آئے تو کیا گزرےخدا جانے بہار آئی تو دیوانے پہ کیا گزری

یہ ہے سیمابؔ اک نا گفتہ بہ افسانہ کیا کہیےوطن سے کنج غربت میں چلے آنے پہ کیا گزری

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں