افتخار احمد کی آواز میں
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں
کلام: پروین شاکر · محفل: کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر) · 2025-12-26
«عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوںمیں ان سے خود کو ضرب دُوں کہ منقتسمِ کر لوں
میں آندھیوں کی مزاج آشنا رہی ہوں مگرخُود اپنے ہاتھ سے کیوں گھر کو منہدم کر لوں