پت جھڑ کے موسم میں تجھ کو
پت جھڑ کے موسم میں تجھ کوکون سے پُھول کا تحفہ بھیجوں
میرا آنگن خالی ہےلیکن میری آنکھوں میں
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
پت جھڑ کے موسم میں تجھ کوکون سے پُھول کا تحفہ بھیجوں
میرا آنگن خالی ہےلیکن میری آنکھوں میں
اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھاہار جیت کی باتیں کل پہ ہم اُٹھا رکھیں آج دوستی کر لیں !!!
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گیرات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی
میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھیمیری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی
کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیںکہ اس لڑکی کی شاعری میں سوائے بارش کی ہنسی،
پھولوں کی مسکراہٹ،چڑیوں کے گیتوں
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئیاور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میںمیرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی
تمہارا کہنا ہےتم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو
تمہاری چاہتوصال کی آخری حدوں تک
ہمیں خبر ہے ہَوا کا مزاج رکھتے ہومگر یہ کیا ، کہ ذرا دیر کو رُکے بھی نہیں
دعا تو جانے کون سی تھیذہن میں نہیں
بس اتنا یاد ہےکہ دو ہتھیلیاں ملی ہوئی تھی
میرے شانوں پہ سر رکھ کےآج
کسی کی یاد میں وہ جی بھر کے رویا !
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوںمیں ان سے خود کو ضرب دُوں کہ منقتسمِ کر لوں
میں آندھیوں کی مزاج آشنا رہی ہوں مگرخُود اپنے ہاتھ سے کیوں گھر کو منہدم کر لوں
اتنے خاموش بھی رہا نہ کروغم جدائی میں یوں کیا نہ کرو
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیےان میں جا کر مگر رہا نہ کرو
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھےسوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
گیا تو اس طرح گیا کہ مدتوں نہیں ملاملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں ملا مجھے
سُن نی کُڑئیےرنگاں دیئے پُڑئیے
میں ٹُر جاواں گامُڑ کے نئیں آواں گا
اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یادتنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیاعمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعدپر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا