6 اشعار

عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں

Azab apne bikhairun ke murattasim kar loon

عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں

«عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوںمیں ان سے خود کو ضرب دُوں کہ منقتسمِ کر لوں

میں آندھیوں کی مزاج آشنا رہی ہوں مگرخُود اپنے ہاتھ سے کیوں گھر کو منہدم کر لوں

بچھڑنے والوں کے حق میں کوئی دُعا کر کےشکستِ خواب کی ساعت محتشم کر لوں

بچاؤ شیشوں کے گھر کا تلاش کرہی لیایہی کہ سنگ بدستوں کا مُنصرِم کر لوں

میں تھک گئی ہوں اِس اندر کی خانہ جنگی سےبدن کو’’سامرا‘‘ آنکھوں کو ’’معتصمِ‘‘کر لوں

مری گلی میں کوئی شہر یار آتا ہےملا ہے حکم کہ لہجے کو محترم کر لوں

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں