افتخار احمد کی آواز میں
بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے
کلام: اسعد بدایونی · محفل: کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی · 2026-04-22
«بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔
بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھےکھجوروں کے درختوں کو گھنیرا سائباں سمجھے
چمن میں میرے آنسو تھے جنہیں شبنم کہا سب نےفلک پر میری آہیں تھیں جنہیں سب کہکشاں سمجھے