بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے
کلام: اسعد بدایونی
بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھےکھجوروں کے درختوں کو گھنیرا سائباں سمجھے
چمن میں میرے آنسو تھے جنہیں شبنم کہا سب نےفلک پر میری آہیں تھیں جنہیں سب کہکشاں سمجھے
کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھےکھجوروں کے درختوں کو گھنیرا سائباں سمجھے
چمن میں میرے آنسو تھے جنہیں شبنم کہا سب نےفلک پر میری آہیں تھیں جنہیں سب کہکشاں سمجھے
ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیںوہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں
ہر ایک لمحۂ لذت حساب مانگتا ہےسو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں