7 اشعار

بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے

Bade nadan the hum ret ko aab-e-rawan samjhe

بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے

«بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھےکھجوروں کے درختوں کو گھنیرا سائباں سمجھے

چمن میں میرے آنسو تھے جنہیں شبنم کہا سب نےفلک پر میری آہیں تھیں جنہیں سب کہکشاں سمجھے

کبھی تجھ کو غبار رنگ میں کوئی کرن جاناکبھی تجھ کو گرفت سنگ میں جوئے رواں سمجھے

کسی بے مہر صبحوں کو عطا کی روشنی ہم نےکئی نا مہرباں راتوں کو بھی ہم مہرباں سمجھے

خزاں کے شہر میں بس میں بہاروں کی علامت تھامرے زخموں کو سب پھولوں کی نازک پتیاں سمجھے

سبھی کو دے رہا تھا وہ دعا جینے کی صدیوں تکہمارے شہر کے سب لوگ اس کو بد زباں سمجھے

تھکے بیٹھے تھے کچھ پنچھی لب دریا جنہیں اسعدؔہم اپنی پر شکستہ خواہشوں کا کارواں سمجھے

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں