افتخار احمد کی آواز میں
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
کلام: پروین شاکر · محفل: یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض · 2025-12-15
«دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہحیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ہجر کے لمحات کڑے وہراتیں تو بڑی تھیں ہی مگر دن بھی بڑے وہ