کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
کلام: فہمیدہ ریاض
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گےوہ تم کو خوف دلائیں گے
جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہےاس راہ میں رہزن ہیں اتنے
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گےوہ تم کو خوف دلائیں گے
جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہےاس راہ میں رہزن ہیں اتنے
لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذراچھو کے میرا بدن
اپنے بچے کے دل کا دھڑکنا سنوناف کے اس طرف
گھر کے قصے بیان ہوتے رہےاپنی مجبوریوں پہ روتے رہے
جان کی دی قسم کہ شاد رہیںالتجا کی کہ بھول جائیں ہمیں
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہحیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ہجر کے لمحات کڑے وہراتیں تو بڑی تھیں ہی مگر دن بھی بڑے وہ
جذبوں کو زبان دے رہا ہوںمیں وقت کو دان دے رہا ہوں
موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیاہر حرف پہ جان دے رہا ہوں