5 اشعار

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

Darwaza jo khola to nazar aaye khaṛe wo

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ

«دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہحیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ

بُھولا نہیں دل ہجر کے لمحات کڑے وہراتیں تو بڑی تھیں ہی مگر دن بھی بڑے وہ

کیوں جان پہ بن آئی ہے بِگڑا ہے اگر وہاُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ

الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیاماتخوشبو سی برسنے لگی یوں پھول جھڑے وہ

طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجےکیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں