مقرر

افتخار احمد

@jawabdeyh

322
پیش کردہ کلام
132
محفلوں میں شرکت
افتخار احمد کی آواز میں

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں

کلام: اسعد بدایونی · محفل: کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی · 2026-04-22

«ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیںوہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں

ہر ایک لمحۂ لذت حساب مانگتا ہےسو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تاریخ ٹسوے بہائے گی Tareekh Tasway Bahaye Gi نصیر احمد ناصر نظم
  2. 02 عرابچی سو گیا ہے Araabchi So Gaya Hai نصیر احمد ناصر نظم
  3. 03 تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے Teri yaadon ka yehi dard mera sarmaya hai راجا اکرام قمر آواز میں دستیاب
  4. 04 ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر Nadim bagh mein josh-e-numu ki baat na kar اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  5. 05 درد فرقت کو کیا کرے کوئی Dard-e furqat ko kya kare koi صفی اورنگ آبادی غزل
  6. 06 ہائے اس بے خود شباب کا رنگ Haye us be khud shabaab ka rang صفی اورنگ آبادی غزل
  7. 07 خانۂ دل میں داغ جل نہ سکا Khana-e dil mein daagh jal na saka عرش ملسیانی غزل
  8. 08 محبت جب ضروری تھی Mohabbat jab zaroori thi تنویر دانش