5 اشعار

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں

Hum apne hijr mein apne visaal mein gum hain

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں

«ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیںوہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں

ہر ایک لمحۂ لذت حساب مانگتا ہےسو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں

شفق کی آنکھ کسے رو رہی ہے مدت سےدیار و دشت سبھی کس ملال میں گم ہیں

رتوں کے دائرے کیوں آج تک سلامت ہیںتمام سلسلے کیوں ماہ و سال میں گم ہیں

یہ چاند جھیل کے پانی سے ہم کلام ہے کیوںکنارے کس لیے رنج و ملال میں گم ہیں

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں