افتخار احمد کی آواز میں
خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے
کلام: کیف بھوپالی · محفل: داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی · 2026-01-13
«خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے
قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا بدلیتیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے