5 اشعار

خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے

Khanqah mein soofi munh chhupaye baitha hai

خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے

«خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے

قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا بدلیتیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے

ان کے چاہنے والے دھوپ دھوپ پھرتے ہیںغیر ان کے کوچے میں سائے سائے بیٹھا ہے

وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیریاک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے

دور بارش اے گلچیں وا ہے دیدۂ نرگسآج ہر گل نرگس خار کھائے بیٹھا ہے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں