کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھ
کلام: کیف بھوپالی
کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھاب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھ
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کاامید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
کٹیا میں کون آئے گا اس تیرگی کے ساتھاب یہ کواڑ بند کرو خامشی کے ساتھ
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کاامید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہےغالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے
قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا بدلیتیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے