افتخار احمد کی آواز میں
رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں
کلام: قتیل شفائی · محفل: اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی) · 2025-11-28
«رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیںاپنا ہی جب دل دھڑکا تو ہم سمجھے وہ آئے ہیں
بند جھروکے سُونی گلیاں ، یا پھر غم کے سائے ہیںچاند ستارے نکلے ہیں لیکن میرے لیے کیا لائے ہیں