رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں
رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیںاپنا ہی جب دل دھڑکا تو ہم سمجھے وہ آئے ہیں
بند جھروکے سُونی گلیاں ، یا پھر غم کے سائے ہیںچاند ستارے نکلے ہیں لیکن میرے لیے کیا لائے ہیں
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیںاپنا ہی جب دل دھڑکا تو ہم سمجھے وہ آئے ہیں
بند جھروکے سُونی گلیاں ، یا پھر غم کے سائے ہیںچاند ستارے نکلے ہیں لیکن میرے لیے کیا لائے ہیں
دیکھنے کو ہمیں وہ خواب ملےسوچ کر بھی جنہیں ثواب ملے
اس طرح وہ ملا ھے یادوں میںجیسے کھوئی ہوئی کتاب ملے
اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہےصدیاں گزریں ، آسماں کا رنگ ابھی تک نیلا ہے
میں ہوں اپنے پیار پہ قائم اُن کی رسمیں وہ جانیںاور ہے ذات حسینوں کی اور میرا اور قبیلہ ہے
اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائےشعلہ سا بدن اس کا دہکتا ہی چلا جائے
کردار ادا جب میں کروں بادِ صبا کاوہ پھول کی مانند مہکتا ہی چلا جائے
یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دےیا پھر چاند ستاروں کو نابینا کر دے
ختم ھوُا جاتا ھے سارا حُسن غزل کاآنکھوں کو ساغر جسموں کو مِینا کر دے