5 اشعار

رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں

Raat ke sannate mein hum ne kya kya dhoke khaaye hain

رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں

«رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیںاپنا ہی جب دل دھڑکا تو ہم سمجھے وہ آئے ہیں

بند جھروکے سُونی گلیاں ، یا پھر غم کے سائے ہیںچاند ستارے نکلے ہیں لیکن میرے لیے کیا لائے ہیں

جس دن سے تم بچھڑ گئے یہ حال ہے اپنی آنکھوں کاجیسے دو بادل ساون کے آپس میں ٹکرائے ہیں

یہ تو راہ نہ بھولو گے تم اب تو ہم سے آن ملودیکھو ہم نے پلک پلک پر سو سو دیپ جلائے ہیں

ہائے قتیل اس تنہائی میں کیا سوجھی ہے موسم کوجس دن سے وہ پاس نہیں اس دن سے بادل چھائے ہیں

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں