افتخار احمد کی آواز میں
شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی
کلام: شاہین عباس · محفل: دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس · 2026-04-23
«شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔
شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئیمیرے ماتھے پہ ستارہ ابھر آیا ہے کوئی
جیسے اس قافلۂ نم سے کوئی رہ گیا ہورنج کرتا ہوا دریا ادھر آیا ہے کوئی