روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئی
کلام: شاہین عباس
روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئیخاک دریافت مری خاک اڑانے سے ہوئی
رنگ پھر آئے نہیں موج میں پہلے کی طرحایسی تصویر مؤخر ترے جانے سے ہوئی
دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
روشنی جیسے کسی شام کے آنے سے ہوئیخاک دریافت مری خاک اڑانے سے ہوئی
رنگ پھر آئے نہیں موج میں پہلے کی طرحایسی تصویر مؤخر ترے جانے سے ہوئی
شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئیمیرے ماتھے پہ ستارہ ابھر آیا ہے کوئی
جیسے اس قافلۂ نم سے کوئی رہ گیا ہورنج کرتا ہوا دریا ادھر آیا ہے کوئی