6 اشعار

شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی

Shab guzari ka mujhe bhi hunar aaya hai koi

شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی

«شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئیمیرے ماتھے پہ ستارہ ابھر آیا ہے کوئی

جیسے اس قافلۂ نم سے کوئی رہ گیا ہورنج کرتا ہوا دریا ادھر آیا ہے کوئی

میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوںتیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کوئی

اپنے مہمان کی خاموشی بھی اب توڑ ذرادیکھ دنیا تری آواز پر آیا ہے کوئی

یہ بتانا ذرا مشکل ہے کہ دیکھا کیوں ہےمیں نے دیکھا ہے جہاں تک نظر آیا ہے کوئی

میں بھی خوش ہوں مرے شعلے میں تماشہ تو ہواروشنی دیکھ کے مجھ میں اتر آیا ہے کوئی

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں