ملک کی آواز میں
اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا
کلام: خواجہ میر درد · محفل: باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد) · 2025-12-11
«اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔
اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیراتُو جس طرف ہووے طرف دار ہُوں تیرا
کڑھنے پہ مِرے جی نہ کڑھا ، تیری بَلا سےاپنا تو نہیں غم مجھے ، غمخوار ہُوں تیرا