7 اشعار

اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا

Apna to nahin yaar mein kuch, yaar hoon tera

اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا

«اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیراتُو جس طرف ہووے طرف دار ہُوں تیرا

کڑھنے پہ مِرے جی نہ کڑھا ، تیری بَلا سےاپنا تو نہیں غم مجھے ، غمخوار ہُوں تیرا

تُو چاہے نہ چاہے، مجھے کُچھ کام نہیں ہے!آزاد ہُوں اِس سے بھی ، گرفتار ہُوں تیرا

تو ہووے جہاں مجھ کو بھی ہونا وہاں لازمتو گُل ہے مِری جان تو، میں خار ہُوں تیرا

ہے عِشق سے میرے ہی تِرے حُسن کا شُہرہمیں کُچھ نہیں پر گرمیِ بازار ہُوں تیرا

میری بھی طرف تو کبھی آجا مِرے یوسف !بوڑھیا کی طرح میں بھی خریدار ہوں تیرا

اے درد ! مجھے کچھ نہیں اب اور تو آزاراُس چشم سے کہدینا کہ ، بیمار ہُوں تیرا

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں