اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیرا
کلام: خواجہ میر درد
اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیراتُو جس طرف ہووے طرف دار ہُوں تیرا
کڑھنے پہ مِرے جی نہ کڑھا ، تیری بَلا سےاپنا تو نہیں غم مجھے ، غمخوار ہُوں تیرا
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
اپنا تو نہیں یار میں کُچھ ، یار ہُوں تیراتُو جس طرف ہووے طرف دار ہُوں تیرا
کڑھنے پہ مِرے جی نہ کڑھا ، تیری بَلا سےاپنا تو نہیں غم مجھے ، غمخوار ہُوں تیرا
وحدت نے ہر طرف ترے جلوے دکھا دیےپردے تعینات کے جو تھے اٹھا دیے
ہوں کشتہ تغافل ہستی بے ثباتخاطر سے کون کون نہ اس نے بھلا دیے