ملک کی آواز میں
بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
بیکسی ہے اور دل ناشاد ہےاب انہیں دونوں سے گھر آباد ہے
اب انہیں کی فکر میں صیاد ہےجن کے نغموں سے چمن آباد ہے