6 اشعار

بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے

Bekasi hai aur dil nashad hai

بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے

«بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

بیکسی ہے اور دل ناشاد ہےاب انہیں دونوں سے گھر آباد ہے

اب انہیں کی فکر میں صیاد ہےجن کے نغموں سے چمن آباد ہے

جو مجھے برباد کر کے شاد ہےاس ستم گر کو مبارک باد ہے

تم نے جو چاہا وہی ہو کر رہایہ ہماری مختصر روداد ہے

ہم نے تم سے رکھ کے امید کرموہ سبق سیکھا کہ اب تک یاد ہے

بے بسی بن کر نہ ٹپکے آنکھ سےدل میں جو اک حسرت فریاد ہے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں