ملک کی آواز میں
دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں
کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04
«دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔
دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوںسینے پہ نَفَس بار ہے، معلُوم نہیں کیوں
اِقرارِ وَفا یار نے ہر اِک سے کِیا ہےمُجھ سے ہی بس اِنکار ہے، معلُوم نہیں کیوں