دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں
کلام: اکبر اللہ آبادی
دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوںسینے پہ نَفَس بار ہے، معلُوم نہیں کیوں
اِقرارِ وَفا یار نے ہر اِک سے کِیا ہےمُجھ سے ہی بس اِنکار ہے، معلُوم نہیں کیوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوںسینے پہ نَفَس بار ہے، معلُوم نہیں کیوں
اِقرارِ وَفا یار نے ہر اِک سے کِیا ہےمُجھ سے ہی بس اِنکار ہے، معلُوم نہیں کیوں
بَوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیںدِل کا سودا ہے، مُجھے دام مِلے گا کہ نہیں
خط میں کیا لکِھّا ہے، قاصد کو خبر کیا اِس کیپُوچھتا ہے، مُجھے اِنعام مِلے گا کہ نہیں