8 اشعار

دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں

Dil zeest se bezaar hai, maloom nahin kyun

دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں

«دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوںسینے پہ نَفَس بار ہے، معلُوم نہیں کیوں

اِقرارِ وَفا یار نے ہر اِک سے کِیا ہےمُجھ سے ہی بس اِنکار ہے، معلُوم نہیں کیوں

ہنگامۂ محشر کا تو مقصوُد ہے معلُومدہلی میں یہ دربار ہے، معلوم نہیں کیوں

جِس سے دِلِ رنجُور کو ،پہونچی ہے اذِیّتپِھر اُس کا طَلَب گار ہے، معلُوم نہیں کیوں

اے گُل! تِرا نظّارہ دِل آویز ہے، لیکنپہلُو میں تِرے خار ہے،معلُوم نہیں کیوں

افلاس میں مستی تو مُجھے خوش نہیں آتیساقی کو یہ اِسرار ہے، معلُوم نہیں کیوں

انداز تو عُشّاق کےپائے نہیں جاتےاکبؔر جگر افگار ہے، معلُوم نہیں کیوں

جینے پہ تو، جان اہلِ جہاں دیتے ہیں اکبؔر!پِھر یہ تُجھے دُشوار ہے ، معلُوم نہیں کیوں

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں