ملک کی آواز میں
اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
کلام: عمیر نجمی · محفل: نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی) · 2026-01-01
«اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔
اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہےکہ جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے
میں نے زندان میں سیکھا تھا، اسیروں سے، اک اِسمجس کو دیوار پہ پھونکیں تو ہوا آتی ہے