7 اشعار

اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے

Is kharaabe mein kuchh aage woh jagah aati hai

اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے

«اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہےکہ جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے

میں نے زندان میں سیکھا تھا، اسیروں سے، اک اِسمجس کو دیوار پہ پھونکیں تو ہوا آتی ہے

خوب رونق تھی اِن آنکھوں میں، پھر اک خواب آیاایسے، جیسے کسی بستی میں وبا آتی ہے

لڑنے جاتے ہیں کہ کچھ مالِ غنیمت لے آئیںاور پھر گھر کی طرف سرخ زرہ آتی ہے

اس کو پردے کا تردد نہیں کرنا پڑتاایسا چہرہ ہے کہ دیکھیں تو حیا آتی ہے

ٹھیک ہے، ساتھ رہو میرے، مگر ایک سوال:تم کو وحشت سے حفاظت کی دعا آتی ہے؟

صحن میں پھرتی ہے برسوں کی سدھائی ہوئی یادجب بھی پُچکار کے کہتا ہوں کہ "آ"، آتی ہے!

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں