اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
کلام: عمیر نجمی
اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہےکہ جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے
میں نے زندان میں سیکھا تھا، اسیروں سے، اک اِسمجس کو دیوار پہ پھونکیں تو ہوا آتی ہے
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہےکہ جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے
میں نے زندان میں سیکھا تھا، اسیروں سے، اک اِسمجس کو دیوار پہ پھونکیں تو ہوا آتی ہے
ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھیفلک سے ربط استوار تھا، گھر کی چھت نہیں تھی
میں کاروبارِجنوں کو اب ترک کر چکا ہوںوہ کام اچھا تھا لیکن اُس میں بچت نہیں تھی