ملک کی آواز میں
نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں
کلام: قمرجلالوی · محفل: قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی) · 2025-11-22
«نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔
نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیںاذاں سمجھے ہو تم جس کو کسی بےکس کے نالے ہیں
تم اپنے ظلم کا محشر میں کر لو ان سے اندازہیہ جتنے ہیں خدا کے سامنے فریاد والے ہیں