نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں
کلام: قمرجلالوی
نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیںاذاں سمجھے ہو تم جس کو کسی بےکس کے نالے ہیں
تم اپنے ظلم کا محشر میں کر لو ان سے اندازہیہ جتنے ہیں خدا کے سامنے فریاد والے ہیں
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)
مہمان شاعر: قمرجلالوی
نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیںاذاں سمجھے ہو تم جس کو کسی بےکس کے نالے ہیں
تم اپنے ظلم کا محشر میں کر لو ان سے اندازہیہ جتنے ہیں خدا کے سامنے فریاد والے ہیں
نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالےکہو کوئی کیسے محبت چھپا لے
کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکایکنگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے