ملک کی آواز میں
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
کلام: افتخارعارف · محفل: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف) · 2025-11-30
«شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے ملک نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔
شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہےجس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے
شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہےنئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے