8 اشعار

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے

Shehar e Gul ke Khas o Khashaak se Khauf Aata Hai

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے

«شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہےجس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے

شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہےنئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے

وقت نے ایسے گھمائے افق آفاق کہ بسمحور گردش سفاک سے خوف آتا ہے

یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھااب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

آگ جب آگ سے ملتی ہے تو لو دیتی ہےخاک کو خاک کی پوشاک سے خوف آتا ہے

قامت جاں کو خوش آیا تھا کبھی خلعت عشقاب اسی جامۂ صد چاک سے خوف آتا ہے

کبھی افلاک سے نالوں کے جواب آتے تھےان دنوں عالم افلاک سے خوف آتا ہے

رحمت سید لولاک پہ کامل ایمانامت سید لولاک سے خوف آتا ہے

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں